27 جنوری 2012 - 20:30

بحرين ميں عوام کي انقلابي تحريک ميں شدت آگئي ہے - بحرين کي الوفاء تنظيم نے عوام کو ايک ہفتے کے مظاہروں کي دعوت دي ہےـ

ابنا: الوفاء تنظيم نے ايک بيان جاري کيا ہے جس ميں کہا گيا ہے کہ اتوار سے مظاہروں کا آغاز ہو گا جو مسلسل ايک ہفتے تک جاري رہيں گے اور عوام سے ہماري اپيل ہے کہ بڑي تعداد ميں ان مظاہروں ميں شرکت کريں ـ تنظيم نے اپنے بيان ميں کہا ہے کہ اتوار کو مظاہروں کا آغاز ہوتے ہي جيلوں ميں بند سياسي قيدي بھي بھوک ہڑتال شروع کر ديں گے اور يہ ہڑتال جمعے تک جاري رہے گي ـ بيان ميں کہا گيا ہے کہ ان مظاہروں کو پائيداري کے پيغام کا نام ديا گيا ہے اور ان مظاہروں کا مقصد قيديوں کي رہائي کے مطالبے پر زور دينا ہےـ

بحرين کي فريڈم موومنٹ نے بھي ايک بيان ميں مزيد چار بحريني مظاہرين کے شہيد ہو جانے کي خبر دي ہے اور رواں ہفتے کو بحرين ميں شاہي حکومت کے خلاف عوامي تحريک شروع ہونے کے بعد سے اب تک کا سب سے خونيں ہفتہ قرار ديا ہےـ اس بيان ميں کہا گياہے کہ گزشتہ بدھ کو چار بحريني مظاہرين سيکورٹي فورس کے حملے ميں آنسو گيس اور پلاسٹک کي گوليوں کا نشانہ بننے کے بعد شہيد ہو گئےـ بيان کے مطابق شہيد ہونے والوں ميں پينسٹھ سالہ الحاج سعيد علي حسن، بائيس سالہ عباس الشيخ، سترہ سالہ محمد ابراہيم يعقوب اور پينتيس سالہ منتظر سعيد فخار شامل ہيں ـ پہلے دو افراد آنسو گيس اور پلاسٹک کي گوليوں سے شہيد ہوئےـ

اس بيان ميں بتايا گيا ہے کہ محمد ابراہيم يعقوب کا تعلق شہر سترہ سے ہے، حکومت مخالف مظاہروں کے دوران پوليس نے ان کا تعاقب کيا اور اپني گاڑي سے انہيں کچل کر زخمي کرنے کے بعد گرفتار کر ليا پھر ايذارساني کے نتيجے ميں ان کي شہادت واقع ہو گئي ـ منتظر سعيد فخار بھي اسي طرح شہيد کر ديئے گئےـ

اس بيان ميں بتايا گيا ہے کہ سيکورٹي فورس کي وحشيانہ کارروائيوں ميں شدت آجانے کے بعد عوام کا غيظ و غضب بھي بڑھ گيا ہے اور حاليہ دنوں ميں ملک کے تقريبا سبھي علاقوں ميں حکومت کے خلاف مظاہرے ہوئےـ

ادھر ايمنسٹي انٹرنيشنل نے بحرين کي انساني حقوق کي ايک تنظيم کے حوالے سے بتايا ہے کہ کم از کم تيرہ افراد اندھا دھندھ آنسو گيس کے استعمال کي وجہ سے دم گھٹنے سے شہيد ہو گئےـ ايمنسٹي انٹرنيشنل نے آنسو گيس کے اس طرح کے استعمال کي مذمت کرتے ہوئے انساني حقوق کي تنظيموں کے ذريعے اس کي تحقيقات کرانے پر زور ديا ہےـ بحرين کے سيکورٹي اہلکار عالمي قوانين کو پامال کرتے ہوئے لوگوں کے گھروں ميں آنسو گيس اور صوتي بموں سے حملے کر رہے ہيں ـ

ايمنسٹي انٹرنيشنل نے امريکي ساخت کے آنسو گيس کو گولوں اور صوتي بموں کے خول کے مظاہروں کي جگہوں پر برآمد ہونے کا ذکر کرتے ہوئے امريکي حکومت سے مطالبہ کيا ہے کہ بحريني عوام کي سرکوبي ميں استعمال ہونے والے ان وسائل کي بحريني حکومت کے ہاتھوں فروخت بند کرےـ

بحرين ميں چودہ فروري سن دو ہزار گيارہ سے حکومت مخالف مظاہرے شروع ہوئے ہيں اور مظاہرين پر سيکورٹي فورس کے حملوں ميں اب تک سيکڑوں افراد شہيد اور زخمي ہو چکے ہيں ـ جبکہ بڑي تعداد ميں گرفتار کئے جانے والے سياسي کارکنوں اب تک لاپتہ ہيں........

/169